حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم میں علماء و فضلاء ہند و پاک کے علمی روابط کو مضبوط بنانے، باہمی تبادلۂ خیال کو فروغ دینے اور برصغیر کے دینی، فقہی و اعتقادی مسائل کے حل کے لیے مدرسہ الامام المنتظرؑ قم المقدسہ میں وفاق المدارس شعبہ قم کے زیرِ اہتمام اساتذۂ درسِ خارج کی ایک اہم علمی نشست منعقد ہوئی۔
اس نشست میں حوزہ علمیہ قم میں درسِ خارج تدریس کرنے والے علماء و اساتذہ، آیت اللہ محمد باقر مقدسی، آیت اللہ سید محمد باقر رضوی کشمیری، آیت اللہ محمد عباس صادقی، آیت اللہ شعبان علی ہادی، آیت اللہ شجاع حسین حسینی اور وفاق المدارس شعبہ قم کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے شرکت کی۔

نشست کے آغاز میں حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے تمام اساتذۂ درسِ خارج کا خیرمقدم کیا اور اس علمی اجتماع کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
حجۃ الاسلام سیفی نے کہا کہ اس وقت حوزہ علمیہ قم میں ہند و پاک سے تعلق رکھنے والے تقریباً نو بزرگ علماء درسِ خارج کی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفاق المدارس شعبہ قم کا مقصد ان علمی شخصیات کا تعارف ہندوستان و پاکستان کے علمی و دینی حلقوں میں کرانا اور برصغیر کے عوام و خواص کو درپیش اہم فقہی، اعتقادی اور دینی مسائل کے سلسلے میں ان کے علمی تجربات اور آراء سے استفادہ کرنا ہے۔
انہوں نے اس سلسلے کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے باقاعدہ علمی نشستوں کے انعقاد کی تجویز پیش کی، تاکہ اساتذہ ایک دوسرے کے علمی تجربات سے استفادہ کرسکیں اور برصغیر کے دینی معاشرے کی ضروریات کے مطابق علمی رہنمائی فراہم کی جاسکے۔

اساتذۂ درسِ خارج کی آراء اور تجاویز
نشست میں استادِ درسِ خارج آیت اللہ محمد عباس صادقی نے اس اقدام کو اہم قرار دیتے ہوئے ایسی علمی نشستوں کے تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے علماء کے درمیان علمی مباحثے، تبادلۂ خیال اور مشترکہ علمی سرگرمیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
استادِ درسِ خارج آیت اللہ سید محمد باقر رضوی کشمیری نے اجتہاد کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہند و پاک کے مخصوص دینی، فقہی اور معاشرتی مسائل کے پیشِ نظر حوزہ علمیہ قم کے باصلاحیت علماء کو اجتہاد کے میدان میں آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برصغیر کے علماء کی علمی استعداد کو ان معاشروں کی دینی ضروریات سے مربوط کیا جائے اور اساتذہ کے درمیان علمی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

استادِ درسِ خارج آیت اللہ شعبان علی ہادی نے ماہانہ کے بجائے مہینے میں دو مرتبہ ان نشستوں کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے حوزہ ہائے علمیہ نجف اشرف اور قم المقدسہ میں ہند و پاک کے علماء کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے علمی اجتماعات ان مسائل کے حل، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے فروغ میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے فقہی مسائل کے علاوہ عقائد سے متعلق اختلافی موضوعات پر بھی تحقیقی کام اور علمی مباحثے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔
استادِ درسِ خارج آیت اللہ محمد باقر مقدسی نے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جامعۃ المنتظر کے بزرگان اور وفاق المدارس کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس اہم علمی سلسلے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا سلسلہ بہت پہلے شروع ہوجانا چاہیے تھا۔
انہوں نے حوزہ ہائے علمیہ میں طلباء و فضلاء کی علمی سرگرمیوں، انہیں درپیش مشکلات اور ان کی علمی استعداد کو بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور مفید آراء و تجاویز پیش کیں۔
آیت اللہ مقدسی نے مزید کہا کہ ہند و پاک کے علماء کی علمی استعداد اور ادبی خدمات عرب و ایران کے علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ حوزہ علمیہ قم اور نجف اشرف میں برصغیر کے علماء کا درسِ خارج تدریس کرنا ایک اہم علمی خدمت ہے۔ اگر یہ بزرگ علماء مہینے میں ایک یا دو مرتبہ جمع ہوکر اپنے ممالک کے مسائل پر گفتگو کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں تو اس کے دور رس اور مفید نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، جن سے عوام و خواص کے متعدد دینی مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
استادِ درسِ خارج آیت اللہ شجاع حسین حسینی نے بھی اس نشست کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ علماء و بزرگان کا ایک جگہ جمع ہوکر علمی گفتگو کرنا اور مشترکہ مسائل پر تبادلۂ خیال کرنا ایک بابرکت قدم ہے، جس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
’’مجمع اساتید درسِ خارج شبہ قارہ‘‘ کے قیام کا اعلان
نشست کے اختتام پر تمام شرکاء کی تائید سے وفاق المدارس شعبہ قم کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے اس علمی اجتماع کو ’’مجمع اساتید درسِ خارج شبہ قارہ‘‘ کا نام دینے کا اعلان کیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اس مجمع کی نشستیں باقاعدگی سے منعقد کی جائیں گی اور ابتدائی طور پر ماہانہ نشستوں کا فیصلہ کیا گیا۔ ان نشستوں کے تحت سب سے پہلے تمام اساتذۂ درسِ خارج کے علمی و تدریسی سفر اور سوانحی کوائف مرتب کیے جائیں گے، جنہیں وفاق المدارس شعبہ قم ایک کتاب کی صورت میں جمع کرکے شائع کرے گا۔

بعد ازاں ہندوستان و پاکستان سے موصول ہونے والے اہم علمی، فقہی اور اعتقادی سوالات و مسائل کو ان نشستوں کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا، تاکہ متعلقہ موضوعات پر اساتذہ کے علمی افادات، آراء اور رہنمائی کو منظم انداز میں مرتب کیا جاسکے۔
اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ ان نشستوں میں ہونے والی علمی گفتگو اور حاصل ہونے والے نتائج کو تحریری شکل دے کر ہند و پاک کے علماء، دینی اداروں، طلباء اور عوام تک پہنچایا جائے گا، تاکہ برصغیر کے دینی حلقے بھی حوزہ علمیہ قم کے علمی سرمائے سے استفادہ کرسکیں۔

دعا اور فاتحہ خوانی کے ساتھ نشست کا اختتام
نشست کے اختتام پر استادِ حوزہ علمیہ قم آیت اللہ محمد باقر مقدسی نے دعا کرائی اور اس علمی مجمع کی کامیابی، ہند و پاک کے علماء و فضلاء اور بالخصوص جامعۃ المنتظر کے بزرگان کے لیے مزید علمی و دینی توفیقات کی دعا کی۔ اس موقع پر مرحوم علماء و بزرگان کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
یہ نشست حوزہ علمیہ قم میں ہند و پاک کے اساتذۂ درسِ خارج کے علمی روابط کو منظم کرنے، برصغیر کے دینی مسائل پر تخصصی گفتگو کو فروغ دینے اور حوزہ کے علمی تجربات کو عوام و خواص تک منتقل کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی گئی۔










آپ کا تبصرہ